خطبہ
جمعہ: عید کے بعد بے حیائی، بے عملی، اور نیکی سے غفلت — ایک دردناک انجام
إنَّ الحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ،
وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا،
مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ.
وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ
أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا
بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ. مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا
عَظِيمًا:
*يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ
حَقَّ تُقَاتِهِ، وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ.*
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ
وَاحِدَةٍ، وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا، وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا
وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ، إِنَّ
اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً
سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ
يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا.
*اما بعد:
فَإِنَّ أَصْدَقَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الهَدْيِ هَدْيُ
مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا،
وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ، وَكُلَّ ضَلاَلَةٍ فِي
النَّارِ.
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی
مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی
اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ
اَللّٰهُمّ
بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی
اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ [q
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ
الَّذِينَ يَسْتَقِيمُونَ عَلَى طَاعَتِكَ وَلَا يَفْتِنُهُمُ الشَّيْطَانُ بَعْدَ
رَمَضَانَ۔
اللّٰهُمَّ قِنَا شَرَّ
الْفَوَاحِشِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ
الْمُتَطَهِّرِينَ۔
اللّٰهُمَّ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا
عَلَى دِينِكَ، وَلَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا۔
اللّٰهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَنَا
وَصِيَامَنَا وَذِكْرَنَا مَدًى الحَيَاةِ، وَلا تَجْعَلْنَا مِنَ الْغَافِلِينَ۔
اللّٰهُمَّ زَيِّنَّا
بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ، غَيْرَ ضَالِّينَ وَلَا
مُضِلِّينَ۔
اللّٰهُمَّ رَزُقْنَا حَيَاءً
يُبْعِدُنَا عَنِ الذُّنُوبِ، وَإِيمَانًا يُنَوِّرُ قُلُوبَنَا، وَيَقِينًا لَا
يَزُولُ۔
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ
يُحِبُّونَ الْخَيْرَ وَأَهْلَهُ، وَيَكْرَهُونَ الْفَاحِشَةَ وَأَهْلَهَا۔
اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ
الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ
النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ۔
اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْ
لِلشَّيْطَانِ سَبِيلًا إِلَيْنَا، وَلَا لِلنَّفْسِ أَنْ تَغْلِبَنَا،
وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُخْلَصِينَ لَكَ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ۔
اللّٰهُمَّ اخْتِمْ لَنَا
بِحُسْنِ الْخَاتِمَةِ، وَلَا تَخْتِمْ لَنَا بِسُوءِ الْخَاتِمَةِ، وَاجْعَلْ
آخِرَ كَلَامِنَا مِنَ الدُّنْيَا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔
۔ اللَّهُمَّ إِنِّي
أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ
وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ،
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ
وَالشِّرْكِ وَالْفُسُوقِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ
وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ
الرِّجَالِ
، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ
وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَحْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ
الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ.
: نکتہ
1: بے حیائی کا انجام — قرآن و حدیث کی روشنی میں
قرآن کریم:
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ
إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا} سورۃ الإسراء: 32)
ترجمہ: "اور زنا کے قریب
بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے
{قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ
الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (سورۃ الأعراف: 33)
ترجمہ: "کہہ دو کہ میرے
رب نے بے حیائیوں کو حرام کر دیا ہے، جو ظاہر ہوں یا چھپی ہوں۔
حدیث مبارکہ:
عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ
مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: "إِنَّ مِمَّا
أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَىٰ: إِذَا لَمْ تَسْتَحِ
فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ" بخاری: 3483)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"پہلی نبوتوں کی باتوں میں سے جو لوگوں کو ملی، وہ یہ ہے: جب تم میں حیاء نہ
رہے تو جو چاہو کرو۔"
قولِ سلف:
قال عبد الله بن عباس رضي الله
عنهما: "إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ"
ترجمہ: "اللہ بے حیاء اور
بد زبانی کرنے والے سے نفرت کرتا ہے۔" الزهد لابن المبارك: 134)
نکتہ 2: نیکی کے بعد بے عملی
کا انجام
قرآن کریم:
{وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي
نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا} النحل: 92)
ترجمہ: "ان جیسا نہ ہو
جانا جنہوں نے اپنا بنا ہوا سوت مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔"
{إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ
كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ
اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ} سورۃ النساء: 137)
ترجمہ: "بے شک جو ایمان
لائے، پھر کافر ہو گئے، پھر ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے،
اللہ ان کو نہیں بخشے گا۔"
حدیث:
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها:
كَانَ أَحَبُّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
بخاری: 6465)
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ کے
نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جس پر بندہ ہمیشہ قائم رہے۔"
قول سلف:
قال الحسن البصري رحمه الله:
"إِنَّ أَهْوَنَ النَّاسِ عَلَى اللّٰهِ مَن تَرَكَ طَاعَتَهُ بَعْدَ
رَمَضَانَ"
ترجمہ: "اللہ کے نزدیک سب
سے ذلیل وہ ہے جو رمضان کے بعد اس کی اطاعت کو چھوڑ دے۔"
الزهد
لابن المبارك: 239)---
نکتہ 3: نیکی پر استقامت
قرآن:
{إِنَّ
الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ
الْمَلَائِكَةُ} فصلت: 30)
ترجمہ: "بے شک جنہوں نے
کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔"
{فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ
وَمَن تَابَ مَعَكَ} ہود: 112)
ترجمہ: "تو تم استقامت
اختیار کرو جیسے تمہیں حکم دیا گیا ہے، اور جو تمہارے ساتھ توبہ کرتے ہیں۔"
حدیث:
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ
اللّٰهِ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، قُلْ لِي فِي
الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ. قَالَ: قُلْ آمَنْتُ
بِاللّٰهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ مسلم: 38)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔"
قول سلف:
قال عمر بن عبد العزيز رحمه
الله: "أفضل العمل ما دام وإن قلّ"
ترجمہ: "سب سے افضل عمل
وہ ہے جو مسلسل کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ (الزهد: 338)
نکتہ 4: جنت کی رغبت اور جہنم
کی وعید
قرآن کریم:
{فَمَن
زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(آل
عمران: 185)
ترجمہ: "جسے جہنم سے بچا
لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی کامیاب ہے۔"
{إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي
نَعِيمٍ، وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ} الانفطار: 13-14)
ترجمہ: "نیک لوگ نعمتوں
میں ہوں گے اور بدکار لوگ جہنم میں ہوں گے۔"
حدیث:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي
الله عنه: "كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَىٰ"
قِيلَ: وَمَنْ يَأْبَىٰ؟ قَالَ: "مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ
عَصَانِي فَقَدْ أَبَىٰ" بخاری: 7280)
ترجمہ: "میری امت کے سب
لوگ جنت میں جائیں گے سوائے ان کے جو انکار کریں، صحابہؓ نے پوچھا: کون انکار کرے
گا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا، اور جس نے نافرمانی کی، اس
نے انکار کیا۔"
قول سلف:
قال الحسن البصري رحمه الله:
"الجنة لا تنال براحة الأبدان، ولكن تنال بالتعب والمجاهدة"
ترجمہ: "جنت جسم کی راحت
سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ مشقت اور مجاہدہ سے حاصل ہوتی ہے۔"
الزهد: 323)---
نکتہ 5: بے حیائی اور بے عملی
سے اجتناب کی ترغیب
قرآن:
{إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ
أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(النور:
19)
ترجمہ: "جو لوگ چاہتے ہیں
کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
{فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ
خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ
غَيًّا} مریم: 59)
ترجمہ: "ان کے بعد کچھ نا
خلف لوگ آئے، جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے، پس وہ عنقریب
گمراہی میں جا گریں گے۔"
حدیث:
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه:
قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ
فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ" ترمذی: 2260، حسن صحیح)
ترجمہ: "ایسا وقت آئے گا
کہ جو اپنے دین پر صبر کرے گا وہ ایسے ہوگا جیسے کوئی جلتی چنگاری کو پکڑ رہا ہو۔"
قول سلف:
قال الفضيل بن عياض رحمه الله:
"لا يَسْتَوي مَنْ يُصَلِّي فِي اللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ وَمَنْ يَنَامُ
عَنْ صَلَاتِهِ"
ترجمہ: "جو رات کو نماز
پڑھتا ہے جبکہ لوگ سو رہے ہوں، وہ اس کے برابر نہیں جو اپنی نماز کو سوتا ہوا چھوڑ
دے۔" حلية
الأولياء: 8/109)
الخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ (باللغة العربية فقط)
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا
مُبَارَكًا فِيهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ
إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ
وَرَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ
تَسْلِيمًا كَثِيرًا۔
أُوصِيكُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ، فَإِنَّهَا
زَادُ الْمُتَّقِينَ، وَوَصِيَّةُ اللَّهِ لِلْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، قَالَ
تَعَالَى:
﴿وَلَقَدْ
وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ
ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ﴾ (النساء: 131)
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ أَفْضَلَ الْكَلَامِ كَلَامُ
اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الْأُمُورِ
مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ،
وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا،
وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا وَلِجَمِيعِ
الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ،
الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ
بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ
الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
(النحل: 90)
فَاذْكُرُوا اللَّهَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى
نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ، وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا
تَصْنَعُونَ۔
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى
نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ