اپنی زبان منتخب کریں

جمعرات، 3 اپریل، 2025

عید کے بعد بے حیائی، بے عملی، اور نیکی سے غفلت


خطبہ جمعہ: عید کے بعد بے حیائی، بے عملی، اور نیکی سے غفلت — ایک دردناک انجام إنَّ الحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ. وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ. مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا:

*يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ.* 

يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا، وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا.

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا.

*اما بعد:

فَإِنَّ أَصْدَقَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ، وَكُلَّ ضَلاَلَةٍ فِي النَّارِ.

 اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ [q


اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يَسْتَقِيمُونَ عَلَى طَاعَتِكَ وَلَا يَفْتِنُهُمُ الشَّيْطَانُ بَعْدَ رَمَضَانَ۔
اللّٰهُمَّ قِنَا شَرَّ الْفَوَاحِشِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ۔
اللّٰهُمَّ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ، وَلَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا۔
اللّٰهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَنَا وَصِيَامَنَا وَذِكْرَنَا مَدًى الحَيَاةِ، وَلا تَجْعَلْنَا مِنَ الْغَافِلِينَ۔
اللّٰهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ، غَيْرَ ضَالِّينَ وَلَا مُضِلِّينَ۔
اللّٰهُمَّ رَزُقْنَا حَيَاءً يُبْعِدُنَا عَنِ الذُّنُوبِ، وَإِيمَانًا يُنَوِّرُ قُلُوبَنَا، وَيَقِينًا لَا يَزُولُ۔
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ يُحِبُّونَ الْخَيْرَ وَأَهْلَهُ، وَيَكْرَهُونَ الْفَاحِشَةَ وَأَهْلَهَا۔
اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ۔
اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْ لِلشَّيْطَانِ سَبِيلًا إِلَيْنَا، وَلَا لِلنَّفْسِ أَنْ تَغْلِبَنَا، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُخْلَصِينَ لَكَ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ۔
اللّٰهُمَّ اخْتِمْ لَنَا بِحُسْنِ الْخَاتِمَةِ، وَلَا تَخْتِمْ لَنَا بِسُوءِ الْخَاتِمَةِ، وَاجْعَلْ آخِرَ كَلَامِنَا مِنَ الدُّنْيَا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔
۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ،
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ وَالْفُسُوقِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ
، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَحْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ.

:
نکتہ 1: بے حیائی کا انجام — قرآن و حدیث کی روشنی میں
قرآن کریم:
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا}          سورۃ الإسراء: 32)
ترجمہ: "اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے
{قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ           (سورۃ الأعراف: 33)
ترجمہ: "کہہ دو کہ میرے رب نے بے حیائیوں کو حرام کر دیا ہے، جو ظاہر ہوں یا چھپی ہوں۔
حدیث مبارکہ:
عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: "إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَىٰ: إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ"        بخاری3483)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "پہلی نبوتوں کی باتوں میں سے جو لوگوں کو ملی، وہ یہ ہے: جب تم میں حیاء نہ رہے تو جو چاہو کرو۔"
قولِ سلف:
قال عبد الله بن عباس رضي الله عنهما: "إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ"
ترجمہ: "اللہ بے حیاء اور بد زبانی کرنے والے سے نفرت کرتا ہے۔"      الزهد لابن المبارك134)
نکتہ 2: نیکی کے بعد بے عملی کا انجام
قرآن کریم:
{وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا}        النحل: 92)
ترجمہ: "ان جیسا نہ ہو جانا جنہوں نے اپنا بنا ہوا سوت مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔"
{إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ}    سورۃ النساء137)
ترجمہ: "بے شک جو ایمان لائے، پھر کافر ہو گئے، پھر ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے، اللہ ان کو نہیں بخشے گا۔"
حدیث:
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها: كَانَ أَحَبُّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ        بخاری6465)
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جس پر بندہ ہمیشہ قائم رہے۔"
قول سلف:
قال الحسن البصري رحمه الله: "إِنَّ أَهْوَنَ النَّاسِ عَلَى اللّٰهِ مَن تَرَكَ طَاعَتَهُ بَعْدَ رَمَضَانَ"
ترجمہ: "اللہ کے نزدیک سب سے ذلیل وہ ہے جو رمضان کے بعد اس کی اطاعت کو چھوڑ دے۔"    الزهد لابن المبارك239)---
نکتہ 3: نیکی پر استقامت
قرآن:
{
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ}     فصلت: 30)
ترجمہ: "بے شک جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔"
{فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ}            ہود112)
ترجمہ: "تو تم استقامت اختیار کرو جیسے تمہیں حکم دیا گیا ہے، اور جو تمہارے ساتھ توبہ کرتے ہیں۔"
حدیث:
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ. قَالَ: قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ      مسلم: 38)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔"
قول سلف:
قال عمر بن عبد العزيز رحمه الله: "أفضل العمل ما دام وإن قلّ"
ترجمہ: "سب سے افضل عمل وہ ہے جو مسلسل کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔    (الزهد338)
نکتہ 4: جنت کی رغبت اور جہنم کی وعید
قرآن کریم:
{
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ       (آل عمران185)
ترجمہ: "جسے جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی کامیاب ہے۔"
{إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ، وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ}           الانفطار13-14)
ترجمہ: "نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے اور بدکار لوگ جہنم میں ہوں گے۔"
حدیث:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: "كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَىٰ" قِيلَ: وَمَنْ يَأْبَىٰ؟ قَالَ: "مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَىٰ"           بخاری7280)
ترجمہ: "میری امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے ان کے جو انکار کریں، صحابہؓ نے پوچھا: کون انکار کرے گا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا، اور جس نے نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔"
قول سلف:
قال الحسن البصري رحمه الله: "الجنة لا تنال براحة الأبدان، ولكن تنال بالتعب والمجاهدة"
ترجمہ: "جنت جسم کی راحت سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ مشقت اور مجاہدہ سے حاصل ہوتی ہے۔"    الزهد323)---
نکتہ 5: بے حیائی اور بے عملی سے اجتناب کی ترغیب
قرآن:
{إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ        (النور: 19)
ترجمہ: "جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
{فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا}    مریم: 59)
ترجمہ: "ان کے بعد کچھ نا خلف لوگ آئے، جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے، پس وہ عنقریب گمراہی میں جا گریں گے۔"
حدیث:
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ"            ترمذی2260، حسن صحیح)
ترجمہ: "ایسا وقت آئے گا کہ جو اپنے دین پر صبر کرے گا وہ ایسے ہوگا جیسے کوئی جلتی چنگاری کو پکڑ رہا ہو۔"
قول سلف:
قال الفضيل بن عياض رحمه الله: "لا يَسْتَوي مَنْ يُصَلِّي فِي اللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ وَمَنْ يَنَامُ عَنْ صَلَاتِهِ"
ترجمہ: "جو رات کو نماز پڑھتا ہے جبکہ لوگ سو رہے ہوں، وہ اس کے برابر نہیں جو اپنی نماز کو سوتا ہوا چھوڑ دے۔" حلية الأولياء: 8/109)
الخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ (باللغة العربية فقط)
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا۔
أُوصِيكُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ، فَإِنَّهَا زَادُ الْمُتَّقِينَ، وَوَصِيَّةُ اللَّهِ لِلْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، قَالَ تَعَالَى:
﴿وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ﴾ (النساء131)
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ أَفْضَلَ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل: 90)
فَاذْكُرُوا اللَّهَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ، وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ۔
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ

 

جمعرات، 27 مارچ، 2025

جمعہ خطبہ ٢٨/مارس /٢٠٢٥

جمعہ خطبہ ٢٨/مارس /٢٠٢٥

پہلا نکتہ: عبادت پوری زندگی مکعمل ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
1. ﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾ (الحجر: 99) "اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت (یقین) آ جائے۔"
2. ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ (الأحقاف: 13) "بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"
حدیث: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ" (بخاری: 6465) "اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہو۔"
قول سلف: ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "أَكْمَلُ النَّاسِ عُبُودِيَّةً مَنْ كَانَ عَلَى عِبَادَتِهِ دَائِمًا لَا يَنْقَطِعُ" "سب سے کامل بندہ وہ ہے جو ہمیشہ عبادت میں مشغول رہے اور اسے ترک نہ کرے۔"
دوسرا نکتہ: نماز کی پابندی رمضان کے بعد بھی ضروری ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
1. ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾ (العنكبوت: 45) "بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔"
2. ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ (البقرة: 238) "نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیانی نماز کی، اور اللہ کے حضور عاجزی کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔"
حدیث: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ الصَّلَاةُ" (ترمذی: 413) "قیامت کے دن سب سے پہلا حساب نماز کا ہوگا۔"
قول سلف: حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مَن حَافَظَ عَلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ لِغَيْرِهَا أَحْفَظُ" "جو نماز کی حفاظت کرے گا، وہ باقی تمام اعمال کی بھی حفاظت کرے گا۔"
تیسرا نکتہ: رمضان کے بعد بھی قرآن سے تعلق رکھیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
1. ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ (المزمل: 4) "اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔"
2. ﴿إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ﴾ (الإسراء: 9) "بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔"
حدیث: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ" (بخاری: 5027) "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔"
قول سلف: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْرِفَ حُبَّهُ لِلَّهِ فَلْيَنْظُرْ حُبَّهُ لِلْقُرْآنِ" "جو یہ جاننا چاہے کہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے یا نہیں، وہ دیکھے کہ اس کا قرآن سے کتنا تعلق ہے۔"

چوتھا نکتہ: رمضان کے بعد بھی روزوں کا اہتمام کریں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
1. ﴿وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (البقرة: 184)
"اور اگر تم روزہ رکھو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔"
2. ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ (الأعراف: 31)
"کھاؤ، پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔"
حدیث:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ" (مسلم: 1164)
"جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔"

قول سلف:
ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الصَّائِمُ فِي عِبَادَةٍ، مَا لَمْ يَغْتَبْ"
"روزہ دار ہمیشہ عبادت میں ہوتا ہے، جب تک کہ وہ غیبت نہ کرے۔"
پانچواں نکتہ: صدقہ و خیرات جاری رکھیں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

1. ﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ﴾ (البقرة: 261)
"جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس سے سات بالیاں نکلتی ہیں، اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔"

2. ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ (آل عمران: 92)
"تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو۔"

حدیث:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" (بخاری: 6006)
"بیوہ اور مسکین کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے۔"

قول سلف:
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَعْرِفَ مَقَامَهُ عِنْدَ اللَّهِ فَلْيَنْظُرْ مَقَامَ اللَّهِ فِي قَلْبِهِ"
"جو یہ جاننا چاہے کہ اللہ کے ہاں اس کا مقام کیا ہے، وہ دیکھے کہ اس کے دل میں اللہ کا مقام کیا ہے۔"
---

ساتواں نکتہ: سچائی اور دیانت داری کو اپنائیں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

1. ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ (التوبة: 119)
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔"


2. ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ (النساء: 58)
"بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ۔"



حدیث:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ" (مسلم: 2607)
"بے شک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔"

قول سلف:
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"إِنَّ الْكَلَامَ لَيْسَ بِكَثْرَةِ، وَلَكِنَّهُ بِالصِّدْقِ"
"کلام کی کثرت نہیں بلکہ سچائی اہمیت رکھتی ہے۔"


---

آٹھواں نکتہ: اعمال میں اخلاص پیدا کریں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

1. ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ (البينة: 5)
"اور انہیں صرف یہ حکم دیا گیا کہ اللہ کی عبادت خالص اسی کے لیے کریں۔"


2. ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ خَالِصًا لَهُ﴾
"بے شک اللہ وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو۔"



حدیث:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" (بخاری: 1)
"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔"

قول سلف:
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَخْلَصُهُ وَأَصْوَبُهُ"
"اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو سب سے زیادہ خالص اور صحیح ہو۔"

منگل، 25 مارچ، 2025

ائیے آسان انداز میں بلاغت سیکھتے ہے


بلاغت کیا ہے؟

بلاغت کا مطلب ہے کسی بات کو خوبصورتی، مؤثر انداز، اور موزوں الفاظ میں پیش کرنا۔ قرآن مجید، احادیث نبویہ، اور عربی ادب میں بلاغت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔

بلاغت کی 3 بنیادی شاخیں

1️⃣ معانی (علم المعانی): جملے کی ساخت اور معنی کے مطابق الفاظ کا انتخاب
2️⃣ بیان (علم البيان): تشبیہ، استعارہ، اور کنایہ کا استعمال
3️⃣ بدیع (علم البديع): الفاظ کی خوبصورتی، صنعتیں اور حسن بیان


---

آج کا پہلا سبق: تشبیہ (Simile) – آسان الفاظ میں

📌 تشبیہ کا مطلب ہے کسی چیز کو کسی اور چیز سے مشابہ قرار دینا تاکہ بات واضح ہو جائے۔

مثالیں:

✅ قرآن میں:
"وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ أَعْمَٰلُهُمْ كَسَرَابٍۢ" (النور: 39)
👉 "کافروں کے اعمال سراب (ریت میں دکھنے والے پانی) کی طرح ہیں۔"
🔹 یہاں اعمال کو سراب سے تشبیہ دی گئی، کیونکہ وہ حقیقت میں کچھ نہیں ہوتے۔

✅ روزمرہ کی زبان میں:

عالم باعمل ایسے ہوتے ہیں جیسے روشنی کا چراغ۔

ظالم کا دل پتھر کی طرح سخت ہوتا ہے۔


📌 مشق: (کمنٹ میں لکھیں یا وٹس ایپ پر ارسال کریں )

1. اپنی زندگی میں کسی چیز کی تشبیہ دیں اور ہمیں بتائیں!


2. قرآن یا حدیث میں مزید تشبیہات تلاش کریں۔



📚 اگلا سبق: استعارہ (Metaphor) – جب بات سیدھی نہ کہی جائے، بلکہ اشارے میں ہو!


پیر، 24 مارچ، 2025

مکمل "عربی زبان سیکھنے" کا نصاب (مع تفصیل)



📖 مکمل "عربی زبان سیکھنے" کا نصاب (مع تفصیل)

مدت: 3 مہینے (90 دن)
روزانہ مطالعہ کا وقت: 45-60 منٹ
منہج: سلف صالحین کی روشنی میں، اسلامی نصوص (قرآن و حدیث) پر مبنی
اہم مہارتیں: لغت، گرامر، سننا، بولنا، لکھنا، پڑھنا

✅ نصاب کے مراحل اور تفصیل

📌 پہلا مہینہ: بنیادی الفاظ، جملے اور گرامر کی ابتدا

🟢 ہفتہ 1: عربی زبان کی بنیاد

📍 دن 1-2:
حروفِ تہجی، مخارج اور تلفظ (مدینہ بکس سے مشق کریں)
الفاظ کی درست ادائیگی اور ان کی شناخت

📍 دن 3-4:
روزمرہ کے 50 بنیادی الفاظ (السلام علیکم، کیف حالک؟، أين المسجد؟ وغیرہ)
اسماء (Nouns) کی پہچان (ھٰذا، ذٰلک، أین، ھنا، ھناک)

📍 دن 5-6:
ضمائر (Pronouns) (أنا، أنت، ھو، ھی، نحن، أنتم)
عربی میں مختصر تعارف دینا سیکھیں (اسمی فلان، أنا طالب العلم)

📍 دن 7:
قرآنی الفاظ کی مشق (یوم، ليل، نھار، شمس، قمر، حق، باطل، رحمة، مغفرة)
10 عام عربی جملے لکھنے اور بولنے کی مشق کریں


🟡 ہفتہ 2: جملوں کی ساخت اور افعال کی ابتدا

📍 دن 8-9:
جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کی پہچان
مدینہ بکس سے مشق (ھٰذا بیتٌ، أین المسجد؟)

📍 دن 10-11:
افعال (Verbs) کے بنیادی صیغے

  • كَتَبَ (لکھا)، يَكْتُبُ (لکھ رہا ہے)، اُكْتُبْ (لکھو)
    افعال ماضی، مضارع اور امر کی پہچان

📍 دن 12-13:
حروفِ جر (Prepositions) سیکھیں (فی، علی، من، الی، مع)
جملے بنانے کی مشق (أنا في المسجد، الكتاب على الطاولة)

📍 دن 14:
قرآن کی عام آیات کو سمجھنے کی کوشش کریں
10 نئے الفاظ لکھیں اور ان کے جملے بنائیں


📌 دوسرا مہینہ: مزید گرامر، مکالمہ اور قرآن فہمی

🟢 ہفتہ 3: عربی مکالمہ اور سننے کی مشق

📍 دن 15-16:
عربی گفتگو سنیں (مدینہ یونیورسٹی کے لیکچرز)
عربی میں سوال اور جواب کی مشق کریں

📍 دن 17-18:
قرآن و حدیث کے عام الفاظ یاد کریں
"منھج السلف فی تعلم العربیہ" (سلف کا طریقہ) سے رہنمائی

📍 دن 19-20:
گھر، مسجد، بازار، اسکول سے متعلق جملے سیکھیں
عربی میں ایک مختصر کہانی لکھیں

📍 دن 21:
تراکیب (Syntax) کی بنیادی سمجھ
قرآن کی مزید آیات کو سمجھنے کی کوشش کریں


🟡 ہفتہ 4: قرآن و حدیث میں موجود عربی فہم کی مشق

📍 دن 22-23:
عربی میں بولنے کی مشق (سورہ فاتحہ اور دعاؤں کے معانی سیکھیں)
10 عام جملے روزانہ بنائیں اور دہرائیں

📍 دن 24-25:
عربی کتب (دروس اللغۃ العربیہ، العربیة بین یدیک) سے مشق کریں
نئے الفاظ کی فہرست بنائیں اور ان کا استعمال سیکھیں

📍 دن 26-27:
عربی میں اپنے خیالات لکھنے کی کوشش کریں
عربی میں چھوٹے چھوٹے مضامین لکھیں

📍 دن 28-30:
اپنی سیکھنے کی پیشرفت کا جائزہ لیں
مزید بہتر ہونے کے لیے اگلے 3 مہینے کا نیا نصاب ترتیب دیں


📚 اہم ذرائع اور کتابیں

مدینہ یونیورسٹی کی "دروس اللغۃ العربیہ"
"العربیة بین یدیک" – مکمل عربی کورس
"آسان عربی گرامر" – عبدالرحمن کیلانی
"تعلیم اللغۃ العربیہ للمبتدئین"


📲 آن لائن وسائل اور ایپس

Learn Arabic - Duolingo, Memrise
Quranic Arabic - Understand Quran
Islamic Online University - Basic Arabic Course
شیخ عاصم الحکیم، نواف العنزی کے لیکچرز


📌 حتمی نتیجہ: 3 مہینے بعد آپ کیا سیکھ چکے ہوں گے؟

عربی میں بنیادی مکالمہ کر سکیں گے
قرآن و حدیث کو بغیر ترجمہ بہتر سمجھ سکیں گے
عربی گرامر کے اصولوں سے واقف ہوں گے
اپنی عربی تحریر اور تقریر میں بہتری لا سکیں گے


❓ مزید رہنمائی چاہیے؟

📌 کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ہر دن کی مشق کو مزید تفصیل سے لکھوں؟
📌 کیا آپ کے پاس کوئی مخصوص مقصد ہے (مثلاً: صرف قرآنی عربی سیکھنا، عام بول چال، یا فقہ کی عربی)؟

جمعرات، 20 مارچ، 2025

خطبہ جمعہ: اعتکاف کی فضیلت، احکام اور مقاصد

 

خطبہ جمعہ: اعتکاف کی فضیلت، احکام اور مقاصد

إنَّ الحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ. وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ. مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا:

*يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ.* 

يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا، وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا.

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا.

*اما بعد:

فَإِنَّ أَصْدَقَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ، وَكُلَّ ضَلاَلَةٍ فِي النَّارِ.

 اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ [q
اللَّهُمَّ اجْعَلْ رَمَضَانَ شَهْرَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَالْمَغْفِرَةِ لَنَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْنَا فِيهِ مِنَ الْمُتَّقِينَ، وَمِنْ أَهْلِ الْقُرْآنِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُكَ وَخَاصَّتُكَ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ الْعَظِيمَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ، وَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ، وَيَتَدَبَّرُونَ آيَاتِهِ۔
اللَّهُمَّ وَفِّقْنَا فِي رَمَضَانَ لِقِيَامِ اللَّيْلِ، وَلِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، وَلِفَهْمِ مَعَانِيهِ، وَلِلْعَمَلِ بِهِ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمْ: (اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا)۔
اللَّهُمَّ اخْتِمْ لَنَا شَهْرَ رَمَضَانَ بِالرِّضْوَانِ، وَالْعِتْقِ مِنَ النِّيرَانِ، وَجَعَلْنَا مِنَ الْفَائِزِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا رَحْمٰنُ۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا، وَلِمَشَايِخِنَا، وَلِمَنْ لَهُ حَقٌّ عَلَيْنَا، وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔
۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ،
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ وَالْفُسُوقِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ
، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَحْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ.
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ
:
اعتکاف کی فضیلت،
معزز سامعین!
آج کا موضوع "اعتکاف کی فضیلت، احکام اور مقاصد" ہے۔ رمضان المبارک میں اعتکاف ایک عظیم عبادت ہے، جو بندے کو دنیاوی مشاغل سے نکال کر اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس خطبے میں ہم پانچ بنیادی نکات پر گفتگو کریں گے:
پہلا نکتہ: اعتکاف کی فضیلت
اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کو خاص برکتوں والا عمل بنایا ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا:
وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَٰعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَٰكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (البقرة125)
"اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں، اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔"
حدیث مبارکہ:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ (بخاری2026)
"نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔"
قولِ سلف صالحین:
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الاعتكاف تربية للنفس وتصفية للقلب"
"اعتکاف نفس کی تربیت اور دل کی صفائی کا ذریعہ ہے۔"
دوسرا نکتہ: اعتکاف کا مقصد
اعتکاف کا مقصد اللہ کی عبادت میں مشغول ہو کر تقویٰ حاصل کرنا اور دنیا کی آلائشوں سے نکل کر روحانی بالیدگی حاصل کرنا ہے۔
قرآن مجید:
1. وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 56)
"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"
2. فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ (الذاریات: 50)
"پس تم اللہ کی طرف دوڑو۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ" (الطبرانی)
"جو شخص اللہ کی رضا کے لیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے، اللہ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں بنا دیتا ہے۔"
قولِ سلف صالحین:
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الاعتكاف فرصة للانقطاع عن الدنيا والاقتراب من الله"
"اعتکاف دنیا سے کٹ کر اللہ کے قریب ہونے کا بہترین موقع ہے۔"
تیسرا نکتہ: اعتکاف کے احکام
قرآن مجید:
وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ (البقرة187)
"اور تم اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو۔"
حدیث مبارکہ:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
"السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا، وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً، وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً" (ابو داؤد2473)
"اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ کسی بیمار کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شرکت کرے، نہ عورت کو ہاتھ لگائے۔"
قولِ سلف صالحین:
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"المعتكف يجلس ليصلح قلبه وعبادته، وليس للحديث واللغو"
"اعتکاف کرنے والا اپنے دل اور عبادت کو سنوارنے کے لیے بیٹھے، نہ کہ گفتگو اور فضول کاموں کے لیے۔"
چوتھا نکتہ: اعتکاف اور شبِ قدر
قرآن مجید:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر: 3)
"شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَن قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" (بخاری1901)
"جو شخص شبِ قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
قولِ سلف صالحین:
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"من أراد ليلة القدر فليلزم الاعتكاف"
"جو شبِ قدر کو پانا چاہتا ہے، اسے اعتکاف کرنا چاہیے۔"
پانچواں نکتہ: رمضان کے بعد بھی عبادت کی استقامت
قرآن مجید:
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (الحجر: 99)
"اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ یقین (موت) آ جائے۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ" (بخاری6464)
"اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو مسلسل کیا جائے، خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔"
قولِ سلف صالحین:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"
العبادة الحقيقية هي المداومة على الطاعة"
"
حقیقی عبادت یہی ہے کہ طاعت پر استقامت اختیار کی جائے۔"---
اللہ ہمیں اعتکاف کی توفیق دے، اسے قبول فرمائے، اور رمضان کے بعد بھی عبادات میں استقامت عطا فرمائے۔ آمین!
الخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ (باللغة العربية فقط)
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا۔
أما بعد!
أُوصِيكُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ، فَإِنَّهَا زَادُ الْمُتَّقِينَ، وَوَصِيَّةُ اللَّهِ لِلْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، قَالَ تَعَالَى:
﴿وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ﴾ (النساء131)
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ أَفْضَلَ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔
اللَّهُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ، وَتَقَبَّلْ مِنَّا صِيَامَهُ وَقِيَامَهُ، وَاجْعَلْنَا مِنْ عُتَقَائِكَ مِنَ النَّارِ۔
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل: 90)
فَاذْكُرُوا اللَّهَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ، وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ۔
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ