اپنی زبان منتخب کریں

جمعرات، 27 مارچ، 2025

جمعہ خطبہ ٢٨/مارس /٢٠٢٥

جمعہ خطبہ ٢٨/مارس /٢٠٢٥

پہلا نکتہ: عبادت پوری زندگی مکعمل ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
1. ﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾ (الحجر: 99) "اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت (یقین) آ جائے۔"
2. ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ (الأحقاف: 13) "بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"
حدیث: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ" (بخاری: 6465) "اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہو۔"
قول سلف: ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "أَكْمَلُ النَّاسِ عُبُودِيَّةً مَنْ كَانَ عَلَى عِبَادَتِهِ دَائِمًا لَا يَنْقَطِعُ" "سب سے کامل بندہ وہ ہے جو ہمیشہ عبادت میں مشغول رہے اور اسے ترک نہ کرے۔"
دوسرا نکتہ: نماز کی پابندی رمضان کے بعد بھی ضروری ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
1. ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾ (العنكبوت: 45) "بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔"
2. ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ (البقرة: 238) "نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیانی نماز کی، اور اللہ کے حضور عاجزی کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔"
حدیث: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ الصَّلَاةُ" (ترمذی: 413) "قیامت کے دن سب سے پہلا حساب نماز کا ہوگا۔"
قول سلف: حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مَن حَافَظَ عَلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ لِغَيْرِهَا أَحْفَظُ" "جو نماز کی حفاظت کرے گا، وہ باقی تمام اعمال کی بھی حفاظت کرے گا۔"
تیسرا نکتہ: رمضان کے بعد بھی قرآن سے تعلق رکھیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
1. ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ (المزمل: 4) "اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔"
2. ﴿إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ﴾ (الإسراء: 9) "بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔"
حدیث: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ" (بخاری: 5027) "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔"
قول سلف: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْرِفَ حُبَّهُ لِلَّهِ فَلْيَنْظُرْ حُبَّهُ لِلْقُرْآنِ" "جو یہ جاننا چاہے کہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے یا نہیں، وہ دیکھے کہ اس کا قرآن سے کتنا تعلق ہے۔"

چوتھا نکتہ: رمضان کے بعد بھی روزوں کا اہتمام کریں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
1. ﴿وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (البقرة: 184)
"اور اگر تم روزہ رکھو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔"
2. ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ (الأعراف: 31)
"کھاؤ، پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔"
حدیث:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ" (مسلم: 1164)
"جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔"

قول سلف:
ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الصَّائِمُ فِي عِبَادَةٍ، مَا لَمْ يَغْتَبْ"
"روزہ دار ہمیشہ عبادت میں ہوتا ہے، جب تک کہ وہ غیبت نہ کرے۔"
پانچواں نکتہ: صدقہ و خیرات جاری رکھیں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

1. ﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ﴾ (البقرة: 261)
"جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس سے سات بالیاں نکلتی ہیں، اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔"

2. ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ (آل عمران: 92)
"تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو۔"

حدیث:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" (بخاری: 6006)
"بیوہ اور مسکین کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے۔"

قول سلف:
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَعْرِفَ مَقَامَهُ عِنْدَ اللَّهِ فَلْيَنْظُرْ مَقَامَ اللَّهِ فِي قَلْبِهِ"
"جو یہ جاننا چاہے کہ اللہ کے ہاں اس کا مقام کیا ہے، وہ دیکھے کہ اس کے دل میں اللہ کا مقام کیا ہے۔"
---

ساتواں نکتہ: سچائی اور دیانت داری کو اپنائیں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

1. ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ (التوبة: 119)
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔"


2. ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ (النساء: 58)
"بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ۔"



حدیث:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ" (مسلم: 2607)
"بے شک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔"

قول سلف:
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"إِنَّ الْكَلَامَ لَيْسَ بِكَثْرَةِ، وَلَكِنَّهُ بِالصِّدْقِ"
"کلام کی کثرت نہیں بلکہ سچائی اہمیت رکھتی ہے۔"


---

آٹھواں نکتہ: اعمال میں اخلاص پیدا کریں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

1. ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ (البينة: 5)
"اور انہیں صرف یہ حکم دیا گیا کہ اللہ کی عبادت خالص اسی کے لیے کریں۔"


2. ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ خَالِصًا لَهُ﴾
"بے شک اللہ وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو۔"



حدیث:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" (بخاری: 1)
"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔"

قول سلف:
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَخْلَصُهُ وَأَصْوَبُهُ"
"اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو سب سے زیادہ خالص اور صحیح ہو۔"

منگل، 25 مارچ، 2025

ائیے آسان انداز میں بلاغت سیکھتے ہے


بلاغت کیا ہے؟

بلاغت کا مطلب ہے کسی بات کو خوبصورتی، مؤثر انداز، اور موزوں الفاظ میں پیش کرنا۔ قرآن مجید، احادیث نبویہ، اور عربی ادب میں بلاغت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔

بلاغت کی 3 بنیادی شاخیں

1️⃣ معانی (علم المعانی): جملے کی ساخت اور معنی کے مطابق الفاظ کا انتخاب
2️⃣ بیان (علم البيان): تشبیہ، استعارہ، اور کنایہ کا استعمال
3️⃣ بدیع (علم البديع): الفاظ کی خوبصورتی، صنعتیں اور حسن بیان


---

آج کا پہلا سبق: تشبیہ (Simile) – آسان الفاظ میں

📌 تشبیہ کا مطلب ہے کسی چیز کو کسی اور چیز سے مشابہ قرار دینا تاکہ بات واضح ہو جائے۔

مثالیں:

✅ قرآن میں:
"وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ أَعْمَٰلُهُمْ كَسَرَابٍۢ" (النور: 39)
👉 "کافروں کے اعمال سراب (ریت میں دکھنے والے پانی) کی طرح ہیں۔"
🔹 یہاں اعمال کو سراب سے تشبیہ دی گئی، کیونکہ وہ حقیقت میں کچھ نہیں ہوتے۔

✅ روزمرہ کی زبان میں:

عالم باعمل ایسے ہوتے ہیں جیسے روشنی کا چراغ۔

ظالم کا دل پتھر کی طرح سخت ہوتا ہے۔


📌 مشق: (کمنٹ میں لکھیں یا وٹس ایپ پر ارسال کریں )

1. اپنی زندگی میں کسی چیز کی تشبیہ دیں اور ہمیں بتائیں!


2. قرآن یا حدیث میں مزید تشبیہات تلاش کریں۔



📚 اگلا سبق: استعارہ (Metaphor) – جب بات سیدھی نہ کہی جائے، بلکہ اشارے میں ہو!


پیر، 24 مارچ، 2025

مکمل "عربی زبان سیکھنے" کا نصاب (مع تفصیل)



📖 مکمل "عربی زبان سیکھنے" کا نصاب (مع تفصیل)

مدت: 3 مہینے (90 دن)
روزانہ مطالعہ کا وقت: 45-60 منٹ
منہج: سلف صالحین کی روشنی میں، اسلامی نصوص (قرآن و حدیث) پر مبنی
اہم مہارتیں: لغت، گرامر، سننا، بولنا، لکھنا، پڑھنا

✅ نصاب کے مراحل اور تفصیل

📌 پہلا مہینہ: بنیادی الفاظ، جملے اور گرامر کی ابتدا

🟢 ہفتہ 1: عربی زبان کی بنیاد

📍 دن 1-2:
حروفِ تہجی، مخارج اور تلفظ (مدینہ بکس سے مشق کریں)
الفاظ کی درست ادائیگی اور ان کی شناخت

📍 دن 3-4:
روزمرہ کے 50 بنیادی الفاظ (السلام علیکم، کیف حالک؟، أين المسجد؟ وغیرہ)
اسماء (Nouns) کی پہچان (ھٰذا، ذٰلک، أین، ھنا، ھناک)

📍 دن 5-6:
ضمائر (Pronouns) (أنا، أنت، ھو، ھی، نحن، أنتم)
عربی میں مختصر تعارف دینا سیکھیں (اسمی فلان، أنا طالب العلم)

📍 دن 7:
قرآنی الفاظ کی مشق (یوم، ليل، نھار، شمس، قمر، حق، باطل، رحمة، مغفرة)
10 عام عربی جملے لکھنے اور بولنے کی مشق کریں


🟡 ہفتہ 2: جملوں کی ساخت اور افعال کی ابتدا

📍 دن 8-9:
جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کی پہچان
مدینہ بکس سے مشق (ھٰذا بیتٌ، أین المسجد؟)

📍 دن 10-11:
افعال (Verbs) کے بنیادی صیغے

  • كَتَبَ (لکھا)، يَكْتُبُ (لکھ رہا ہے)، اُكْتُبْ (لکھو)
    افعال ماضی، مضارع اور امر کی پہچان

📍 دن 12-13:
حروفِ جر (Prepositions) سیکھیں (فی، علی، من، الی، مع)
جملے بنانے کی مشق (أنا في المسجد، الكتاب على الطاولة)

📍 دن 14:
قرآن کی عام آیات کو سمجھنے کی کوشش کریں
10 نئے الفاظ لکھیں اور ان کے جملے بنائیں


📌 دوسرا مہینہ: مزید گرامر، مکالمہ اور قرآن فہمی

🟢 ہفتہ 3: عربی مکالمہ اور سننے کی مشق

📍 دن 15-16:
عربی گفتگو سنیں (مدینہ یونیورسٹی کے لیکچرز)
عربی میں سوال اور جواب کی مشق کریں

📍 دن 17-18:
قرآن و حدیث کے عام الفاظ یاد کریں
"منھج السلف فی تعلم العربیہ" (سلف کا طریقہ) سے رہنمائی

📍 دن 19-20:
گھر، مسجد، بازار، اسکول سے متعلق جملے سیکھیں
عربی میں ایک مختصر کہانی لکھیں

📍 دن 21:
تراکیب (Syntax) کی بنیادی سمجھ
قرآن کی مزید آیات کو سمجھنے کی کوشش کریں


🟡 ہفتہ 4: قرآن و حدیث میں موجود عربی فہم کی مشق

📍 دن 22-23:
عربی میں بولنے کی مشق (سورہ فاتحہ اور دعاؤں کے معانی سیکھیں)
10 عام جملے روزانہ بنائیں اور دہرائیں

📍 دن 24-25:
عربی کتب (دروس اللغۃ العربیہ، العربیة بین یدیک) سے مشق کریں
نئے الفاظ کی فہرست بنائیں اور ان کا استعمال سیکھیں

📍 دن 26-27:
عربی میں اپنے خیالات لکھنے کی کوشش کریں
عربی میں چھوٹے چھوٹے مضامین لکھیں

📍 دن 28-30:
اپنی سیکھنے کی پیشرفت کا جائزہ لیں
مزید بہتر ہونے کے لیے اگلے 3 مہینے کا نیا نصاب ترتیب دیں


📚 اہم ذرائع اور کتابیں

مدینہ یونیورسٹی کی "دروس اللغۃ العربیہ"
"العربیة بین یدیک" – مکمل عربی کورس
"آسان عربی گرامر" – عبدالرحمن کیلانی
"تعلیم اللغۃ العربیہ للمبتدئین"


📲 آن لائن وسائل اور ایپس

Learn Arabic - Duolingo, Memrise
Quranic Arabic - Understand Quran
Islamic Online University - Basic Arabic Course
شیخ عاصم الحکیم، نواف العنزی کے لیکچرز


📌 حتمی نتیجہ: 3 مہینے بعد آپ کیا سیکھ چکے ہوں گے؟

عربی میں بنیادی مکالمہ کر سکیں گے
قرآن و حدیث کو بغیر ترجمہ بہتر سمجھ سکیں گے
عربی گرامر کے اصولوں سے واقف ہوں گے
اپنی عربی تحریر اور تقریر میں بہتری لا سکیں گے


❓ مزید رہنمائی چاہیے؟

📌 کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ہر دن کی مشق کو مزید تفصیل سے لکھوں؟
📌 کیا آپ کے پاس کوئی مخصوص مقصد ہے (مثلاً: صرف قرآنی عربی سیکھنا، عام بول چال، یا فقہ کی عربی)؟

جمعرات، 20 مارچ، 2025

خطبہ جمعہ: اعتکاف کی فضیلت، احکام اور مقاصد

 

خطبہ جمعہ: اعتکاف کی فضیلت، احکام اور مقاصد

إنَّ الحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ. وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ. مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا:

*يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ.* 

يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا، وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا.

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا.

*اما بعد:

فَإِنَّ أَصْدَقَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ، وَكُلَّ ضَلاَلَةٍ فِي النَّارِ.

 اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ [q
اللَّهُمَّ اجْعَلْ رَمَضَانَ شَهْرَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَالْمَغْفِرَةِ لَنَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْنَا فِيهِ مِنَ الْمُتَّقِينَ، وَمِنْ أَهْلِ الْقُرْآنِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُكَ وَخَاصَّتُكَ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ الْعَظِيمَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ، وَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ، وَيَتَدَبَّرُونَ آيَاتِهِ۔
اللَّهُمَّ وَفِّقْنَا فِي رَمَضَانَ لِقِيَامِ اللَّيْلِ، وَلِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، وَلِفَهْمِ مَعَانِيهِ، وَلِلْعَمَلِ بِهِ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمْ: (اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا)۔
اللَّهُمَّ اخْتِمْ لَنَا شَهْرَ رَمَضَانَ بِالرِّضْوَانِ، وَالْعِتْقِ مِنَ النِّيرَانِ، وَجَعَلْنَا مِنَ الْفَائِزِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا رَحْمٰنُ۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا، وَلِمَشَايِخِنَا، وَلِمَنْ لَهُ حَقٌّ عَلَيْنَا، وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔
۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ،
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ وَالْفُسُوقِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ
، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَحْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ.
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ
:
اعتکاف کی فضیلت،
معزز سامعین!
آج کا موضوع "اعتکاف کی فضیلت، احکام اور مقاصد" ہے۔ رمضان المبارک میں اعتکاف ایک عظیم عبادت ہے، جو بندے کو دنیاوی مشاغل سے نکال کر اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس خطبے میں ہم پانچ بنیادی نکات پر گفتگو کریں گے:
پہلا نکتہ: اعتکاف کی فضیلت
اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کو خاص برکتوں والا عمل بنایا ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا:
وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَٰعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَٰكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (البقرة125)
"اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں، اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔"
حدیث مبارکہ:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ (بخاری2026)
"نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔"
قولِ سلف صالحین:
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الاعتكاف تربية للنفس وتصفية للقلب"
"اعتکاف نفس کی تربیت اور دل کی صفائی کا ذریعہ ہے۔"
دوسرا نکتہ: اعتکاف کا مقصد
اعتکاف کا مقصد اللہ کی عبادت میں مشغول ہو کر تقویٰ حاصل کرنا اور دنیا کی آلائشوں سے نکل کر روحانی بالیدگی حاصل کرنا ہے۔
قرآن مجید:
1. وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 56)
"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"
2. فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ (الذاریات: 50)
"پس تم اللہ کی طرف دوڑو۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ" (الطبرانی)
"جو شخص اللہ کی رضا کے لیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے، اللہ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں بنا دیتا ہے۔"
قولِ سلف صالحین:
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الاعتكاف فرصة للانقطاع عن الدنيا والاقتراب من الله"
"اعتکاف دنیا سے کٹ کر اللہ کے قریب ہونے کا بہترین موقع ہے۔"
تیسرا نکتہ: اعتکاف کے احکام
قرآن مجید:
وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ (البقرة187)
"اور تم اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو۔"
حدیث مبارکہ:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
"السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا، وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً، وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً" (ابو داؤد2473)
"اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ کسی بیمار کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شرکت کرے، نہ عورت کو ہاتھ لگائے۔"
قولِ سلف صالحین:
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"المعتكف يجلس ليصلح قلبه وعبادته، وليس للحديث واللغو"
"اعتکاف کرنے والا اپنے دل اور عبادت کو سنوارنے کے لیے بیٹھے، نہ کہ گفتگو اور فضول کاموں کے لیے۔"
چوتھا نکتہ: اعتکاف اور شبِ قدر
قرآن مجید:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر: 3)
"شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَن قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" (بخاری1901)
"جو شخص شبِ قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
قولِ سلف صالحین:
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"من أراد ليلة القدر فليلزم الاعتكاف"
"جو شبِ قدر کو پانا چاہتا ہے، اسے اعتکاف کرنا چاہیے۔"
پانچواں نکتہ: رمضان کے بعد بھی عبادت کی استقامت
قرآن مجید:
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (الحجر: 99)
"اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ یقین (موت) آ جائے۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ" (بخاری6464)
"اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو مسلسل کیا جائے، خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔"
قولِ سلف صالحین:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"
العبادة الحقيقية هي المداومة على الطاعة"
"
حقیقی عبادت یہی ہے کہ طاعت پر استقامت اختیار کی جائے۔"---
اللہ ہمیں اعتکاف کی توفیق دے، اسے قبول فرمائے، اور رمضان کے بعد بھی عبادات میں استقامت عطا فرمائے۔ آمین!
الخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ (باللغة العربية فقط)
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا۔
أما بعد!
أُوصِيكُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ، فَإِنَّهَا زَادُ الْمُتَّقِينَ، وَوَصِيَّةُ اللَّهِ لِلْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، قَالَ تَعَالَى:
﴿وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ﴾ (النساء131)
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ أَفْضَلَ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔
اللَّهُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ، وَتَقَبَّلْ مِنَّا صِيَامَهُ وَقِيَامَهُ، وَاجْعَلْنَا مِنْ عُتَقَائِكَ مِنَ النَّارِ۔
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل: 90)
فَاذْكُرُوا اللَّهَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ، وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ۔
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ

 

جمعرات، 13 مارچ، 2025

خطبہ جمعہ: رمضان اور صدقہ و خیرات

 

خطبہ جمعہ: رمضان اور صدقہ و خیرات

إنَّ الحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ. وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ. مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا:

*يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ.* 

يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا، وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا.

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا.

*اما بعد:

فَإِنَّ أَصْدَقَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ، وَكُلَّ ضَلاَلَةٍ فِي النَّارِ.

 اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ [q
اللَّهُمَّ اجْعَلْ رَمَضَانَ شَهْرَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَالْمَغْفِرَةِ لَنَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْنَا فِيهِ مِنَ الْمُتَّقِينَ، وَمِنْ أَهْلِ الْقُرْآنِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُكَ وَخَاصَّتُكَ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ الْعَظِيمَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ، وَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ، وَيَتَدَبَّرُونَ آيَاتِهِ۔
اللَّهُمَّ وَفِّقْنَا فِي رَمَضَانَ لِقِيَامِ اللَّيْلِ، وَلِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، وَلِفَهْمِ مَعَانِيهِ، وَلِلْعَمَلِ بِهِ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمْ: (اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا)۔
اللَّهُمَّ اخْتِمْ لَنَا شَهْرَ رَمَضَانَ بِالرِّضْوَانِ، وَالْعِتْقِ مِنَ النِّيرَانِ، وَجَعَلْنَا مِنَ الْفَائِزِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا رَحْمٰنُ۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا، وَلِمَشَايِخِنَا، وَلِمَنْ لَهُ حَقٌّ عَلَيْنَا، وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔
۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ،
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ وَالْفُسُوقِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ
، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَحْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ.
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ

نکتہ 1: صدقہ و خیرات، اللہ کی رضا اور تقویٰ کا ذریعہ
قرآنی آیات:
1. إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ (التغابن: 17)
"اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو، تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ قدر دان، بُردبار ہے۔"
2. الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة262)
"جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف پہنچاتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"
حدیث مبارکہ:
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: "کانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَکَانَ أَجْوَدَ مَا یَکُونُ فِي رَمَضَانَ" (بخاری: 6)
"رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں آپ ﷺ سب سے زیادہ سخاوت فرمایا کرتے تھے۔"

قولِ سلف صالحین:
حسن بصریؒ فرماتے ہیں: "افضل الصدقة ما كان في رمضان"
"سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو رمضان میں دیا جائے۔"
نکتہ 2: صدقہ مال میں برکت اور گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ
قرآنی آیات:
1. يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ (البقرة276)
"اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔"
2. وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقرة272)
"
اور جو کچھ تم خرچ کرو گے، وہ تمہارے ہی لیے ہوگا اور تم صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ الصَّدَقَةَ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ" (ترمذی664)
"بے شک صدقہ رب کے غضب کو ٹھنڈا کر دیتا ہے اور بری موت کو دور کر دیتا ہے۔"
قولِ سلف صالحین:
سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں: "الصدقة تفتح أبواب الجنة العشرة"
"صدقہ جنت کے دسوں دروازے کھول دیتا ہے۔"
نکتہ 3: غریبوں اور محتاجوں کی مدد، حقیقی نیکی
قرآنی آیات:
1. وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ۝ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الإنسان8-9)
"
اور وہ لوگ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکرگزاری۔"
2. لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: 92)
"تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز میں سے خرچ نہ کرو۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" (بخاری6006)
"بیوہ اور مسکین کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔"
قولِ سلف صالحین:
امام شافعیؒ فرماتے ہیں: "إذا أقبل رمضان فأكثروا فيه من الصدقة، فإنها سبب لدفع البلاء"
"جب رمضان آئے تو صدقہ کثرت سے دو، کیونکہ یہ بلاؤں کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔"
نکتہ 4: صدقہ قبر اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ
قرآنی آیات:
1.
وَأَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ (المنافقون: 10)
"اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے۔"
2. مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً (البقرة245)
"کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے تاکہ وہ اسے کئی گنا بڑھا کر لوٹائے؟"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلاثٍ: صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ" (مسلم1631)
"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں میں سے ایک کے، جن میں جاری صدقہ بھی شامل ہے۔"
قولِ سلف صالحین:
امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں: "المال مال الله، فإنفقه في سبيل الله"
"مال اللہ کا ہے، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔"
الخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ (باللغة العربية فقط)
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا۔
أما بعد!
أُوصِيكُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ، فَإِنَّهَا زَادُ الْمُتَّقِينَ، وَوَصِيَّةُ اللَّهِ لِلْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، قَالَ تَعَالَى:
﴿وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ﴾ (النساء131)
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ أَفْضَلَ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا۔

https://mominsalafi.blogspot.com/2025/03/blog-post_13.html
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔
اللَّهُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ، وَتَقَبَّلْ مِنَّا صِيَامَهُ وَقِيَامَهُ، وَاجْعَلْنَا مِنْ عُتَقَائِكَ مِنَ النَّارِ۔
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل: 90)
فَاذْكُرُوا اللَّهَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ، وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ۔
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ