خطبہ
جمعہ: رمضان اور صدقہ
و خیرات
إنَّ الحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ،
وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا،
مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ.
وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ
أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا
بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ. مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا
عَظِيمًا:
*يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ
حَقَّ تُقَاتِهِ، وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ.*
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ
وَاحِدَةٍ، وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا، وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا
وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ، إِنَّ
اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً
سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ
يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا.
*اما بعد:
فَإِنَّ أَصْدَقَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الهَدْيِ هَدْيُ
مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا،
وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ، وَكُلَّ ضَلاَلَةٍ فِي
النَّارِ.
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا
صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ
مَّجِيْدٌ
اَللّٰهُمّ بَارِكْ
عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ
وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ [q
اللَّهُمَّ اجْعَلْ رَمَضَانَ شَهْرَ الْخَيْرِ
وَالْبَرَكَةِ وَالْمَغْفِرَةِ لَنَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْنَا
فِيهِ مِنَ الْمُتَّقِينَ، وَمِنْ أَهْلِ الْقُرْآنِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُكَ
وَخَاصَّتُكَ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ الْعَظِيمَ
رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ
هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يَتْلُونَهُ حَقَّ
تِلَاوَتِهِ، وَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ، وَيَتَدَبَّرُونَ آيَاتِهِ۔
اللَّهُمَّ وَفِّقْنَا فِي رَمَضَانَ لِقِيَامِ
اللَّيْلِ، وَلِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، وَلِفَهْمِ مَعَانِيهِ، وَلِلْعَمَلِ بِهِ،
وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمْ: (اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا
كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا)۔
اللَّهُمَّ اخْتِمْ لَنَا شَهْرَ رَمَضَانَ
بِالرِّضْوَانِ، وَالْعِتْقِ مِنَ النِّيرَانِ، وَجَعَلْنَا مِنَ الْفَائِزِينَ
بِرَحْمَتِكَ يَا رَحْمٰنُ۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا،
وَلِمَشَايِخِنَا، وَلِمَنْ لَهُ حَقٌّ عَلَيْنَا، وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ
وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ
وَالْأَمْوَاتِ۔
۔ اللَّهُمَّ إِنِّي
أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ
وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ،
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ
وَالشِّرْكِ وَالْفُسُوقِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ
وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ
الرِّجَالِ
، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ
وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ.
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَحْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ
الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ.
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى
نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ
نکتہ 1: صدقہ و خیرات، اللہ کی
رضا اور تقویٰ کا ذریعہ
قرآنی آیات:
1. إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا
يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ (التغابن: 17)
"اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو،
تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ قدر دان،
بُردبار ہے۔"
2. الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي
سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَهُمْ
أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
(البقرة: 262)
"جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ
میں خرچ کرتے ہیں اور پھر نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف پہنچاتے ہیں، ان کا اجر
ان کے رب کے پاس ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"
حدیث مبارکہ:
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے
ہیں: "کانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَجْوَدَ
النَّاسِ، وَکَانَ أَجْوَدَ مَا یَکُونُ فِي رَمَضَانَ" (بخاری: 6)
"رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی
تھے، اور رمضان میں آپ ﷺ سب سے زیادہ سخاوت فرمایا کرتے تھے۔"
قولِ سلف صالحین:
حسن بصریؒ فرماتے ہیں: "افضل الصدقة ما كان في
رمضان"
"سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو
رمضان میں دیا جائے۔"
نکتہ 2: صدقہ مال میں برکت اور
گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ
قرآنی آیات:
1. يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي
الصَّدَقَاتِ (البقرة: 276)
"اللہ سود کو مٹاتا ہے اور
صدقات کو بڑھاتا ہے۔"
2. وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ
فَلِأَنفُسِكُمْ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا
تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقرة: 272)
"اور
جو کچھ تم خرچ کرو گے، وہ تمہارے ہی لیے ہوگا اور تم صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ
کرتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں
کیا جائے گا۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ الصَّدَقَةَ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ
وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ" (ترمذی: 664)
"بے شک صدقہ رب کے غضب کو ٹھنڈا
کر دیتا ہے اور بری موت کو دور کر دیتا ہے۔"
قولِ سلف صالحین:
سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں: "الصدقة تفتح أبواب الجنة
العشرة"
"صدقہ جنت کے دسوں دروازے کھول
دیتا ہے۔"
نکتہ 3: غریبوں اور محتاجوں کی
مدد، حقیقی نیکی
قرآنی آیات:
1. وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ
مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا
نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الإنسان: 8-9)
"اور
وہ لوگ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور کہتے ہیں)
ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ
شکرگزاری۔"
2. لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ
تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: 92)
"تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب
تک اپنی پسندیدہ چیز میں سے خرچ نہ کرو۔"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ
وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" (بخاری: 6006)
"بیوہ اور مسکین کے لیے کوشش
کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔"
قولِ سلف صالحین:
امام شافعیؒ فرماتے ہیں: "إذا أقبل رمضان فأكثروا
فيه من الصدقة، فإنها سبب لدفع البلاء"
"جب رمضان آئے تو صدقہ کثرت سے
دو، کیونکہ یہ بلاؤں کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔"
نکتہ 4: صدقہ قبر اور آخرت میں
کامیابی کا ذریعہ
قرآنی آیات:
1. وَأَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن
قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ (المنافقون: 10)
"اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے
خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے۔"
2. مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ
قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً (البقرة: 245)
"کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے
تاکہ وہ اسے کئی گنا بڑھا کر لوٹائے؟"
حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ
عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلاثٍ: صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ" (مسلم: 1631)
"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے
اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں میں سے ایک کے، جن میں جاری صدقہ بھی
شامل ہے۔"
قولِ سلف صالحین:
امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں: "المال مال الله، فإنفقه
في سبيل الله"
"مال اللہ کا ہے، اسے اللہ کی
راہ میں خرچ کرو۔"
الخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ (باللغة العربية فقط)
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا
مُبَارَكًا فِيهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ
إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ
وَرَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ
تَسْلِيمًا كَثِيرًا۔
أما بعد!
أُوصِيكُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى
اللَّهِ، فَإِنَّهَا زَادُ الْمُتَّقِينَ، وَوَصِيَّةُ اللَّهِ لِلْأَوَّلِينَ
وَالْآخِرِينَ، قَالَ تَعَالَى:
﴿وَلَقَدْ
وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ
ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ﴾ (النساء: 131)
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ أَفْضَلَ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ، وَخَيْرَ
الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ
مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي
النَّارِ۔
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا،
وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا۔
https://mominsalafi.blogspot.com/2025/03/blog-post_13.html
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا وَلِجَمِيعِ
الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ،
الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔
اللَّهُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ، وَتَقَبَّلْ مِنَّا
صِيَامَهُ وَقِيَامَهُ، وَاجْعَلْنَا مِنْ عُتَقَائِكَ مِنَ النَّارِ۔
عِبَادَ اللهِ!
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ
وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ
وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل: 90)
فَاذْكُرُوا اللَّهَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى
نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ، وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا
تَصْنَعُونَ۔
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى
نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ